تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال میں ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے: ہماری بہادری کا معیار آخر کیا ہے؟
سعودی عرب جب حوثیوں کی طرف سے اپنے مفادات یا تنصیبات کو خطرہ محسوس کرتا ہے تو دفاعی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال بھی ہے:
کیا ہر جنگ کو صرف طاقت کے پیمانے سے دیکھا جائے گا، یا ظلم و زیادتی اور مظلوم و ظالم کا فرق بھی ملحوظ رکھا جائے گا؟
حوثیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں عام یمنی عوام کی مشکلات، تباہی، بے گھر ہونے والے خاندانوں اور ایک طویل انسانی بحران کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی سیاسی یا عسکری اختلاف کا جواب ایسی کارروائی نہیں ہونا چاہیے جس کا سب سے بھاری بوجھ عام انسان اٹھائے۔ کمزور فریق پر طاقت آزمائی کو بہادری سمجھنا اور طاقتور کے سامنے خاموش ہوجانا بہادری نہیں بلکہ منافقت اور بزدلی کی علامت ہے۔
دوسری طرف اسرائیل شام میں کارروائی کرتا ہے، ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار کو نشانہ بناتا ہے، اور جواب میں ہمیں زیادہ تر مذمت، احتجاج اور سفارتی بیانات سنائی دیتے ہیں۔
یہ سوال کسی ایک ملک کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ مسلم دنیا کی مجموعی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل نے شام کے ابو الظہور فوجی اڈے پر فضائی حملہ کیا۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ وہاں ترکی اپنے فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا تھا، جبکہ ترکی نے اس کارروائی کی مذمت کی۔
اب ذرا اس واقعے کو مکہ معاہدے کے تناظر میں دیکھیے!
مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے تعاون کریں گے اور کسی رکن کو تنہا سمجھ کر نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔
یہ ایک اہم پیش رفت تھی۔
لیکن ہر دفاعی معاہدے کی اصل طاقت اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کی عملی ساکھ میں ہوتی ہے۔
دنیا یہ دیکھتی ہے کہ اگر کسی ایک رکن کو خطرہ لاحق ہو تو باقی دو کیا کرتے ہیں۔
اور آج سب سے بڑا سوال یہی ہے:
اگر ترکی کے مفادات کو اسرائیل نشانہ بناتا ہے تو مکہ معاہدہ کہاں کھڑا ہے؟
ترکی خطے کی ایک بڑی فوجی طاقت ہے، نیٹو کا رکن ہے اور شام میں اس کا سیاسی و عسکری اثر و رسوخ نمایاں ہے۔ اردوغان فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر برسوں سے سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف ان کی تقریریں، دھمکیاں اور بلند بانگ بیانات مسلم دنیا میں خوب سنے جاتے ہیں۔
مگر بس بیانات اور کچھ نہیں
سوال یہ ہے کہ ان بیانات کی عملی قیمت کیا ہے؟
ایک طرف اسرائیل کے خلاف سخت تقریریں، دوسری طرف اسرائیلی کارروائی کے سامنے بس احتجاج!
اگر عملی جواب دینا مقصود نہیں تو پھر یہ گرج دار بیانات کس کے لیے ہیں؟
اردوغان کی یہ مسلسل سخت بیانیہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ صرف عوامی جذبات کو مطمئن کرنے کے لیے ہو؟
اگر دشمن کو معلوم ہو کہ سخت ترین بیان کے بعد بھی عملی طور پر کچھ نہیں ہوگا تو پھر ایسی دھمکیاں گیدڑ بھبکیوں سے زیادہ کیا حیثیت رکھتی ہیں؟
یہاں سعودی عرب کا کردار بھی سوال پیدا کرتا ہے۔
حوثیوں کے ساتھ سعودی عرب کا تنازع کوئی نیا معاملہ نہیں۔ لیکن اگر حوثیوں کے خلاف کارروائی میں طاقت کا استعمال جائز سمجھا جاتا ہے تو اس کارروائی کے انسانی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یمنی عوام نے طویل عرصے تک جنگ، تباہی، غربت اور بے بسی کا بوجھ اٹھایا ہے۔
کسی کمزور فریق پر مسلسل طاقت استعمال کرنا بہادری کی دلیل نہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
اگر حوثیوں کے مقابلے میں طاقت کا استعمال ضروری ہے تو اسرائیل کے سامنے طاقت، مزاحمت یا کم از کم مؤثر اجتماعی دباؤ کیوں نظر نہیں آتا؟
یہی وہ تضاد ہے جو اس پورے منظرنامے کو مشکوک بناتا ہے۔
ایک طرف یمن کے کمزور اور جنگ زدہ عوام ہیں؛ دوسری طرف اسرائیل ہے جس کے پاس جدید ترین اسلحہ، فضائی طاقت اور عالمی طاقتوں کی بھرپور پشت پناہی موجود ہے۔
اگر بہادری کا مطلب صرف کمزور کے خلاف طاقت کا مظاہرہ ہے تو یہ بہادری نہیں۔
بہادری تو وہاں ہوتی ہے جہاں طاقتور کے سامنے بھی اصول نہ بدلے جائیں۔
اور یہی سوال ترکی سے بھی ہے۔
ترکی اور اردوغان نے اسرائیل کے خلاف بہت کچھ کہا، مگر اب جب اسرائیل نے شام میں ترکی کے مفادات کو چیلنج کیا تو عملی جواب کہاں ہے؟
اگر ایک ملک صرف تقریروں میں شیر اور میدانِ عمل میں محتاط سے بھی آگے بڑھ کر خاموش ہوجائے تو عوام سوال ضرور کریں گے کہ یہ شیر کی دھاڑ تھی یا گیدڑ کی بھبکی؟
اب آئیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اتحاد کی طرف
مکہ مکرمہ میں معاہدہ ہوا، تصاویر بنیں، بیانات آئے، مشترکہ دفاع کی بات ہوئی۔
لیکن اتحاد کی اصل آزمائش تصویروں کے وقت نہیں ہوتی۔
اتحاد کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب دشمن سامنے کھڑا ہو۔
اگر ترکی کو اسرائیل نشانہ بنائے اور ترکی صرف مذمت کرے؛
پاکستان خاموش رہے؛
سعودی عرب خاموش رہے؛
اور پھر بھی کہا جائے کہ ’’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘‘—
تو عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر اس اتحاد کی عملی حیثیت کیا ہے؟
اگر یہ اتحاد صرف کمزوروں کو دھمکانے، اپنے عوام کو طاقت کا احساس دلانے اور عالمی سطح پر سیاسی نمائش کے لیے ہے تو سخت الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ اتحاد تین طاقتور ریاستوں کا مضبوط دفاعی اتحاد نہیں بلکہ بزدلوں کا گٹھ جوڑ دکھائی دیتا ہے۔
کیونکہ طاقتور اتحاد وہ ہوتا ہے جس سے دشمن خوف کھائے، نہ کہ ایسا اتحاد جس کے بارے میں دشمن جانتا ہو کہ حملہ کرو گے تو زیادہ سے زیادہ ایک مذمتی بیان جاری ہوگا۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست جنگ چھیڑ دینا کوئی معمولی فیصلہ نہیں۔ اس کے نتیجے میں پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ اس لیے جنگ سے گریز کو ہر صورت بزدلی قرار دینا درست نہیں۔
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ اگر جنگ نہیں کرنی تو کم از کم مؤثر اجتماعی دباؤ، سفارتی محاذ، اقتصادی اقدامات، سیاسی اتحاد اور واضح سرخ لکیر کہاں ہے؟
خاموشی اور حکمتِ عملی میں فرق ہوتا ہے۔
احتیاط اور بزدلی میں فرق ہوتا ہے۔
سفارت کاری اور بے بسی میں فرق ہوتا ہے۔
اور یہ فرق عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔
اگر تین ملک مل کر دفاعی معاہدہ کرتے ہیں تو انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا اتحاد صرف کاغذ پر نہیں بلکہ سیاسی عزم میں بھی موجود ہے۔
ورنہ سوال یہی رہے گا:
حوثیوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ، یمنی عوام پر جنگ کی سختیاں؛
اسرائیل کے سامنے خاموشی، احتجاج اور سفارتی بیانات؛
اور ترکی کی طرف سے بلند بانگ دھمکیاں مگر عملی خاموشی۔۔۔
تو پھر مکہ معاہدہ آخر کس کام کا؟
کیا یہ واقعی دفاعی اتحاد ہے؟
یا صرف ایک ایسی سیاسی تصویر جس میں تین ملک ایک میز پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، مگر میدانِ عمل میں ہر ایک اپنے اپنے مفادات کے پیچھے کھڑا ہے؟
اصل بہادری کمزور پر ہاتھ اٹھانا نہیں، طاقتور کے سامنے حق پر قائم رہنا ہے۔
اصل اتحاد یہ نہیں کہ تین حکمران ایک ساتھ بیٹھ جائیں؛
اصل اتحاد یہ ہے کہ جب ایک پر حملہ ہو تو باقی دو اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
مکہ مکرمہ میں معاہدہ ہوچکا ہے۔
اب وقت تقریروں کا نہیں، عمل کا امتحان ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہ اتحاد صرف الفاظ کا اتحاد ہے یا واقعی ایسا دفاعی بندھن ہے جس کے بارے میں کوئی بھی جارح یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ:
ایک کو چھیڑا تو تینوں کو جواب دینا پڑے گا۔
ورنہ تاریخ کا سوال بہت سادہ ہوگا:
حوثیوں کے سامنے بہادری، اسرائیل کے سامنے خاموشی۔۔۔ ترکی کی گیدڑ بھبکیاں، سعودی عرب کی دوہری حکمتِ عملی اور پاکستان کی خاموشی۔۔۔ تو پھر مکہ معاہدہ آخر کس کام کا؟
نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔









آپ کا تبصرہ